سرد ہوائیں بول رہی ہیں، بالکل اُس کے لہجے میں

سرد ہوائیں بول رہی ہیں، بالکل اُس کے لہجے میں

میں بھی یاد کی چادر اوڑھے اُس کو سننے بیٹھا ہوں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مانتا ھُوں کہ مُجھے عشق نہیں ھے تُجھ سے
گیا ہے جو بھکاری، جانتے ہو کون تھا یہ ؟
نہ خوف آہ بتوں کو نہ ڈر ہے نالوں کا
چوم بیٹھا ہوں تیری آنکھوں کو
اتنا میٹھا تھا وہ غصّے بھرا لہجہ مت پوچھ
نہ نکلی حسرت دل ایک بھی ہزار افسوس
حالانکہ مسکراتے ہیں وہ وقت گفتگو
آج کل میرے تصرف میں نہیں ہے لیکن
زندگی مختصر ملی تھی ہمیں
وہ ٹیس کہ ابھری تھی ادھر یاد رہے گی