اردوئے معلیٰ

Search

سرشار عشق میں نہ طلب گار تخت ہے

دل اپنی مفلسی کی ہواؤں میں مست ہے

 

تن جھڑتا جا رہا ہے کسی دکھ سے اسطرح

جیسے ہوائے تند میں سوکھا درخت ہے

 

ہر تان پر رگوں میں لہو ہو رہا ہے خشک

احساس کے نواح میں وہ سوز ہست ہے

 

آنکھیں بجھی چراغ بجھے خواب بھی بجھے

ہے کوئی جو ہماری طرح تیرہ بخت ہے

 

ہو جائے کاش مجھ سے غزل یہ تمام شد

اک شعر ہی لکھا ہے جگر لخت لخت ہے

 

دل پر اتر رہی ہیں قناعت کی آیتیں

اور آنکھ میں ہوس کا نیا بندو بست ہے

 

اک شخص کی وفا میں جیے چار دن فقیہہ

ورنہ یہ زندگی کا سفر ایک جست ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ