اردوئے معلیٰ

’’سرشار مجھے کر دے اک جامِ لبالب سے‘‘

 

’’سرشار مجھے کر دے اک جامِ لبالب سے‘‘

الطاف و عنایت کا طالب ہوں شہا کب سے

جلووں سے چمک جائے اِس دل کا نہاں خانہ

’’تا حشر رہے ساقی آباد یہ مَے خانہ‘‘

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ