اردو معلی copy
(ہمارا نصب العین ، ادب اثاثہ کا تحفظ)

’’سرشار مجھے کر دے اک جامِ لبالب سے‘‘

 

’’سرشار مجھے کر دے اک جامِ لبالب سے‘‘

الطاف و عنایت کا طالب ہوں شہا کب سے

جلووں سے چمک جائے اِس دل کا نہاں خانہ

’’تا حشر رہے ساقی آباد یہ مَے خانہ‘‘

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

وہ مری نعت کا محتاج نہیں ، جنّت سے
مری سرکار ہیں شیریں سُخن معجز بیاں بھی
ہے مری چشم نم حبیبِؐ خُدا
کہیں تاریخِ عالم میں نہ دیکھا
جبیں میری ہے اُنؐ کا نقشِ پا ہے
کوئی اُنؐ سا نہیں کون و مکاں میں
گُلوں میں رنگ، خوشبو تازگی ہے
’’سائلو! دامن سخی کا تھام لو‘‘
’’میں کیوں غیر کی ٹھوکریں کھا نے جاؤں ‘‘
’’ستم سے اپنے مٹ جاؤ گے تم خود اے ستم گارو!‘‘