سرمایہ جاں ہیں شہِ ابرار کی باتیں

سرمایہ جاں ہیں شہِ ابرار کی باتیں

کس درجہ سکوں دیتی ہیں سرکار کی باتیں

 

کرتے ہیں کرم سب پہ کہ عادت ہے یہ ان کی

سنتے ہیں وفا دار وخطا کار کی باتیں

 

ہاں! کیسے ہیں وہ کوچہ و بازار وگلیاں

کچھ اور کرو شہرِ پُر انوار کی باتیں

 

ہاں! کیسے برستا ہے وہاں نور کا بادل

کچھ اور کرو گنبدِ ضوبار کی باتیں

 

ہاں! کیسے غبارِ دل وجاں دُھلتا ہے زائر

کچھ اور کرو ابر گُہر بار کی باتیں

 

ہاں! کیسے وہاں چلتی ہیں تھم تھم کے ہوائیں

کچھ اور مچلتی ہوئی مہکار کی باتیں

 

جی چاہے کہ ہر آن سنوں ذکرِ پیمبر

ہوتی رہیں کونین کے سردار کی باتیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

پیشِ حق مژدہ شفاعت کا سناتے جائیں گے
نہیں ہے منگتا کوئی بھی ایسا کہ جس کا دامن بھرا نہیں ہے
واحسن منک لم ترقط عینی
شکر صد شکر کہ رہتی ہے مجھے یاد مدینہ
وہ کہ ہیں خیرالا نام
خاک سورج سے اندھیروں کا ازالہ ہوگا
خالق عطا ہو صدقہ محمد کے نام کا
واحد ہے تو تنہا ہے، تو ذات میں یکتا ہے
دو جہاں پر ہے جو چهایا وہ اجالا آپ ہیں
حقیقت میں وہ لطف زندگی پایا نہیں کرتے

اشتہارات