سرورِ عالمیاں، فخر سلاطین جہاں

سرورِ عالمیاں، فخر سلاطین جہاں

جس کی امی لقبنی پر ہو بلاغت قرباں

 

جس کے ابلاغ نے بخشا ہے صداقت کا شعور

جس کے ادراک سے ہوتا ہے خدا کا عرفاں

 

جس کے انوار سے ظلمت کو ملے تابانی

جس کے افکار نے انساں کو دیا عزمِ جواں

 

ناطق وحی و بیاں ہے وہ رسولِ اکرم

آسمانوں سے ہوا جس پہ نزول قرآں

 

اُس کی تنویر سے روشن ہے شبستان وجود

اُس کی خوشبو سے معطر ہیں قلوب و اذہاں

 

اُس نے منشور فلاح بشریت دے کر

دین و دنیا کے کیے سارے مراحل آساں

 

جاوداں ہیں شہ ابرار کی عظمت کے نقوش

مٹ گئے قیصر و فغفور کی سطوت کے نشاں

 

اُس کے اوصاف و شمائل، میں لکھوں کیا خالد

فکر انگشت بدنداں ہے، خرد بھی حیراں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ