سرورِ ارض و سما آئے کہو صلِّ علیٰ

سرورِ ارض و سما آئے کہو صلِّ علیٰ

شہنشاہِ انبیاء آئے کہو صلِّ علیٰ

 

آمنہ بی بی کے دل کے چین آئے مرحبا!

سعدیہ کے دلربا آئے کہو صلِّ علیٰ

 

وجد میں کعبے کی دھرتی ، وجد میں ہے کائنات

تاجدارِ دوسرا آئے کہو صلِّ علیٰ

 

عیدوں کی بھی عید کا دن بارہ ماہِ نور کی

جس میں وہ نور الہدیٰ آئے کہو صلِّ علیٰ

 

جھولیاں بھر جائیں گی سب آمنہ کے گھر چلو

وہ سخاوت کے شہا آئے کہو صلِّ علیٰ

 

جشنِ میلاد النبی ہے نور کی برسات ہے

سب کے وہ خیرالوریٰ آئے کہو صلِّ علیٰ

 

سب پکارو جھوم کر آقا کی آمد مرحبا

خلق کے حاجت روا آئے کہو صلِّ علیٰ

 

آمنہ بی ، بی کا گھر ہے اور اجالے ہیں رضاؔ

گھر میں جب شاہِ وریٰ آئے کہو صلِّ علیٰ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

جان ہیں آپؐ جانِ جہاں آپؐ ہیں
ہر موج ہوا زلف پریشانِ محمدؐ
رشکِ ایجاب تبھی حرفِ دعا ہوتا ہے
قصہء شقِّ قمر یاد آیا​
ہم گداؤں بے نواؤں کا سہارا آپ ہیں
گھڑی مڑی جی بھر آوندا اے ۔ پنجابی نعت
ہر طرف پھیلی جمالِ مصطفی کی روشنی
جو عرش کا چراغ تھا میں اس قدم کی دھول ہوں
ہم مدحتِ رسولِ گرامی اگر کریں
بے مثل ہے کونین میں سرکارؐ کا چہرہ

اشتہارات