سرورِ انبیاء آگئے، آگئے

سرورِ انبیاء آ گئے، آ گئے

رازدارِ خدا آ گئے، آ گئے

 

حضرتِ آمنہ صد مبارک تمہیں

گود میں مصطفی آ گئے، آ گئے

 

ماں حلیمہ کا گھر نور سے سج گیا

جب سے نور الہدیٰ آ گئے، آ گئے

 

راہ بھٹکے ہوئے منزلیں پائیں گے

خَلق کے رہنما آ گئے، آ گئے

 

اب کنارے لگیں گی سبھی کشتیاں

دوستو! ناخدا آ گئے، آ گئے

 

اے رضاؔ کائناتیں ہیں محوِ ثنا

تاجدارِ ہدیٰ آ گئے، آ گئے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

گدا نواز ہے اور نازِ آب و گِل بھی ہے
عرفان نقشِ ذات کا، قُدسی صفات کا
تُوعنایتوں کا مجاز ہے، مری خواہشیں مرے نام کر
حکم خالق کا سُنا ، سر کو جھکا کر آیا
کفر کے قلعے گرانے آ گئے ہیں مصطفیٰﷺ
حضور ! آپ کی فرقت رلائے جاتی ہے
فنا ہو جائے گی دنیا مہ و انجم نہیں ہوں گے
ہے نام دو جہاں میں وجہِ قرار تیرا
بڑھ کے نہ کوئی ان سے محبوب خدا دیکھا
جب کبھی تلخئ ایام سے گھبراتا ہوں