اردوئے معلیٰ

سرورِ کونین کی وہ شان و عظمت ہے کہ بس

دم بہ خود ہے سارا عالم ایسی رفعت ہے کہ بس

 

آپ کی پشتِ مبارک پر خدا نے ثبت کی

دیدنی وہ آپ کی مُہرِ نبوت ہے کہ بس

 

دید کی خواہش ہوئی معراج پر بلوا لیا

آپ سے اللہ کو اتنی محبّت ہے کہ بس

 

اپنے عاشق کا درودِ پاک خود سنتے ہیں آپ

رب نے بخشی آپ کو ایسی سماعت ہے کہ بس

 

سب جہاں کی رونقیں مدہم ہیں جس کے سامنے

آپ کے دربار کی وہ زیب و زینت ہے کہ بس

 

رحمۃ للعالمیں ہیں آپ سا کوئی نہیں

آپ کی ہم عاصیوں پر ایسی رحمت ہے کہ بس

 

آپ کو اللہ نے ایسا دیا ہے اختیار

دو جہاں میں آپ کی ایسی حکومت ہے کہ بس

 

جان و دل مال و متاع قدموں پہ لا کر رکھ دیا

اتنی آقا سے صحابہ کو محبّت ہے کہ بس

 

کیا کہوں کیسے کہوں خاکیؔ حقیقت ہے یہی

مجھ کو شاہِ دیں سے کچھ ایسی عقیدت ہے کہ بس

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ