سرِ نظارت رخِ مدینہ کہاں سے لاؤں

سرِ نظارت رخِ مدینہ کہاں سے لاؤں

عجم کی مٹی ہوں طورِ سینا کہاں سے لاؤں

 

حضورِ اکرم سُنیں تو ہولے سے مسکرا دیں

میں نعت کہنے کا وہ قرینہ کہاں سے لاؤں

 

مہک تو سکتے ہیں اب بھی دونوں جہان لیکن

میں شاہِ ابرار کا پسینہ کہاں سے لاؤں

 

میں دیکھ پاؤُں شہِ مکرم کے نرم تلوے

میں وہ مقدر وہ چشمِ بینا کہاں سے لاؤں

 

جسے مدینے کے کنکروں کی مثال سمجھوں

وہ لعلِ نایاب وہ نگینہ کہاں سے لاؤں

 

ربیعِ اول مسرتیں بانٹتا ہے ہر سو

میں ہر مہینے وہی مہینہ کہاں سے لاؤں

 

جو نعلِ پائے رسول تک دے رسائی مجھ کو

میں بے ہنر وہ رفیع زینہ کہاں سے لاؤں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

درجاتِ مصطفےٰ میں یوں تفریق کی گئی
یکتَا بہ فضِیلت ہیں ہر اَبرار سے پہلے
’’منظور تھی جو شکل تجلی کو نور کی‘‘
کیسے رکھتا میں آنکھوں کا نم تھام کر
نعت لکھنے کا جب بھی ارادہ کیا
آتا ہے یاد شاہِ مدینہ کا در مجھے
رات ڈھلتی رہی ، بات ہوتی رہی
جتنا علم و شعور ملتا ہے
اسی انسان سے مجھے بوئے وفا آتی ہے
اُمیؐ نے بہرہ مند کیا عقل و خرد سے

اشتہارات