سرکار کی یادوں کا دریچہ جو کھُلا ہو

سرکار کی یادوں کا دریچہ جو کھُلا ہو

دل فرطِ مسرت سے مرا غارِ حرا ہو

ہر لمحہ میں ہر سمت جھلک آپ کی دیکھوں

ہو مجھ پہ کرم آپ کا مجھ پر یہ عطا ہو

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ