سرکارؐ کے کرم سے یہ فیضانِ نعت ہے

سرکارؐ کے کرم سے یہ فیضانِ نعت ہے

دل کہہ رہا ہے آج بھی امکانِ نعت ہے

 

نم آنکھ ، ہاتھ کانپتے ، ہے سر نِگوں مِرا

اور قلبِ بے قرار ، یہ وِجدانِ نعت ہے

 

ہیں چند لفظ مدحتِ سرکارؐ میں گُندھے

عاصی کے پاس کب کوئی دیوانِ نعت ہے

 

اس زندگی میں جو بھی میسر ہوا مجھے

سرکارؐ کا کرم ہے سبھی دانِ نعت ہے

 

مجھ سے اگر سنو تو سنو بس درودِ پاک

ہمراہ قبر میں مرے سامانِ نعت ہے

 

وقتِ وصال دیکھے گا جو بھی عطا تجھے

بولے گا لب پہ اس کے تو مُسکانِ نعت ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ہر اِک شے سے سوا ان کو ہی چاہو
بے مثل ہے کونین میں سرکارؐ کا چہرہ
زوجۂ پاکِ مُزّ مِّل و ابطحی
نہیں ہے دم خم کسی میں اتنا، ثنا نبیؐ کی جو لکھے کامل
رَب کا منشا تھا حضور آپ کا ظاہر ہونا
آمنہ بی کا پسر، راج کنور، لختِ جگر
رسولِ اکرم کو جب سے پہنچا سلام میرا
ہر طرف تیرگی تھی نہ تھی روشنی
بے آب و ثمر تھا زمیں کا مقدر
مدینےکا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ