سرکار کی مدحت کو ہونٹوں پہ سجانا ہے

سرکار کی مدحت کو ہونٹوں پہ سجانا ہے

اور دل کے جزیرے میں اک باغ لگانا ہے

 

اس در سے عقیدت ہی دستارِ فضیلت ہے

آقا کے غلاموں کے قدموں میں زمانہ ہے

 

ہوتا ہے عطا سب کو سرکار کی چوکھٹ سے

دربارِ محمد تو رحمت کا خزانہ ہے

 

رحمت کی گھٹائیں ہیں انوار کی بارش ہے

طیبہ کے مناظر کا ہر رنگ سہانا ہے

 

عشاق مدینے کے سو جاتے ہیں مٹی پر

ان کے لئے پتھر بھی مخمل کا سرہانہ ہے

 

وہ شمعِ ہدایت ہیں وہ حسنِ دو عالم ہیں

جاں انکی امانت ہے دل ان کا دِوانہ ہے

 

جو اُن کے ہوئے عادل مغموم نہیں ہونگے

احمد کے غلاموں کا فردوس ٹھکانہ ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

حشر میں مجھ کو بس اتنا آسرا درکار ہے
شکستہ حال اپنے دل کو سمجھانے کہاں جاتے
رخ پہ رحمت کا جھومر سجائے کملی والے کی محفل سجی ہے
طیبہ کی اُس ریت پہ پھولوں کے مسکن قربان
حقیقتِ مصطفی کہوں کیا کہ اضطراب اضطراب میں ہے
قلم خوشبو کا ہو اور اس سے دل پر روشنی لکھوں
وہ جو شبنم کی پوشاک پہنے ہوئے
میں پہلے آبِ زم زم سے قلم تطہیر کرتا ہوں​
گل شاہ بحر و بر کا اک ادنیٰ غلام ہے
نہیں ہے ارض وسما میں کوئی شریک خدا

اشتہارات