اردوئے معلیٰ

Search

سرکار کی مدحت کو ہونٹوں پہ سجانا ہے

اور دل کے جزیرے میں اک باغ لگانا ہے

 

اس در سے عقیدت ہی دستارِ فضیلت ہے

آقا کے غلاموں کے قدموں میں زمانہ ہے

 

ہوتا ہے عطا سب کو سرکار کی چوکھٹ سے

دربارِ محمد تو رحمت کا خزانہ ہے

 

رحمت کی گھٹائیں ہیں انوار کی بارش ہے

طیبہ کے مناظر کا ہر رنگ سہانا ہے

 

عشاق مدینے کے سو جاتے ہیں مٹی پر

ان کے لئے پتھر بھی مخمل کا سرہانہ ہے

 

وہ شمعِ ہدایت ہیں وہ حسنِ دو عالم ہیں

جاں انکی امانت ہے دل ان کا دِوانہ ہے

 

جو اُن کے ہوئے عادل مغموم نہیں ہونگے

احمد کے غلاموں کا فردوس ٹھکانہ ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ