اردوئے معلیٰ

Search

سر بسر یار کی مرضی پہ فدا ہو جانا

کیا غضب کام ہے راضی بہ رضا ہو جانا

 

بند آنکھو وہ چلے آئیں تو وا ہو جانا

اور یوں پھوٹ کے رونا کہ فنا ہو جانا

 

عشق میں کام نہیں زور زبردستی کا

جب بھی تم چاہو جدا ہونا جدا ہو جانا

 

تیری جانب ہے بتدریج ترقی میری

میرے ہونے کی ہے معراج ترا ہو جانا

 

تیرے آنے کی بشارت کے سوا کچھ بھی نہیں

باغ میں سوکھے درختوں کا ہرا ہو جانا

 

اک نشانی ہے کسی شہر کی بربادی کی

ناروا بات کا یک لخت روا ہو جانا

 

تنگ آ جاؤں محبت سے تو گاہے گاہے

اچھا لگتا ہے مجھے تیرا خفا ہو جانا

 

سی دئیے جائیں مرے ہونٹ تو اے جان غزل

ایسا کرنا مری آنکھوں سے ادا ہو جانا

 

بے نیازی بھی وہی اور تعلق بھی وہی

تمہیں آتا ہے محبت میں خدا ہو جانا

 

اژدہا بن کے رگ و پے کو جکڑ لیتا ہے

اتنا آسان نہیں غم سے رہا ہو جانا

 

اچھے اچھوں پہ برے دن ہیں لہٰذا فارسؔ

اچھے ہونے سے تو اچھا ہے برا ہو جانا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ