اردوئے معلیٰ

 

سر بہ سر مصحفِ انوار کوئی اور نہیں

آپ ہیں آپ ہی سر کار کوئی اور نہیں

 

ہے یہ قرآں سے بھی روشن کہ شہِ دیں جیسا

صاحبِ سیرت وکردار کوئی اور نہیں

 

صنعتِ خالقِ کونین میں اے شاہِ امم

آپ کی شان کا شہکار کوئی اور نہیں

 

آپ جس منزلِ معراج کو پہنچے آقا

ایسی رفعت کا سزا وار کوئی اورنہیں

 

خواہشِ دیدنبی کس کو نہیں ہے لیکن

ربِّ اکبر سا طلبگار کوئی اور نہیں

 

پھول رحمت کے بہ ہرآن جہاںِ کھلتے ہیں

کوئے آقا سا چمن زار کوئی اور نہیں

 

دیکھ کر جس کو حضور اپنی خبر تک نہ رہے

ہے وہ بس آپ کا دربار کوئی اور نہیں

 

آپ احمد بھی محمد بھی ہیں محمود بھی ہیں

اِن چراغوں سے ضیا بارکوئی اور نہیں

 

راستہ قرب الٰہی کا دکھا نے میں قمرؔ

جیسے آقا ہیں مدد گار کوئی اور نہیں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات