اردوئے معلیٰ

سر میں ہے خاک پاؤں میں زنجیر، ہم فقیر

سر میں ہے خاک پاؤں میں زنجیر، ہم فقیر

بیٹھے ہیں بن کے عشق کی تصویر، ہم فقیر

 

وہ قیس تھا جو دشت کو بھاگا تھا ناصحو

ہر روز تم سے ہوں گے بغل گیر ، ہم فقیر

 

اپنے ہی خون میں رہی لت پت ہماری لاش

اپنے ہی خواب کی بنے تعبیر ، ہم فقیر

 

دریا کے ہر بھنور میں تری آنکھ کا غرور

صحرا کی ریت پر لکھی تحریر ، ہم فقیر

 

تجھ تمکنت مزاج کو کیا علم قاتلا

پاتے ہیں زندگی تہہ ِ شمشیر ، ہم فقیر

 

ہر شام گھر پلٹتے ہیں بے حال اور نڈھال

کشکول میں رکھے ہوئے جاگیر ، ہم فقیر

 

حیدر ہیں اور وظیفے سخن میں بہت مگر

کرتے ہیں ورد ہر گھڑی یا میرؔ ، ہم فقیر

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ