سطوتِ شاہی سے بڑھ کر بے نوائی کا شرَف

سطوتِ شاہی سے بڑھ کر بے نوائی کا شرَف

مل گیا جس کو ترے در کی گدائی کا شرَف

 

ذی نِعَم تھے، ذی کرم تھے یوں تو سارے انبیا

آپ نے پایا ہے لیکن مصطفائی کا شرَف

 

آپ ہی کا ذِکر ہے بے مثل رفعت کا امیں

آپ ہی پر ناز کرتا ہے بڑائی کا شرَف

 

بے شرَف اظہار میں ڈھلتے نہیں حرف و قلم

نعت کی خدمت میں ہے اب خامہ سائی کا شرَف

 

لوگ جب کہتے ہیں مجھ کو آپ کا دریوزہ گر

یوں تو پھر بھاتا ہے دل کو خود نمائی کا شرَف

 

دل ذرا بھی بے طلب کرنا نہیں اس ہجر میں

حضرتِ جامی سے پُوچھو نارسائی کا شرَف

 

اُن کے بندے کو میسر ہے زمانوں کا خراج

اُن کے دستِ ناز میں دیکھو تو رائی کا شرَف

 

آپ کی عظمت نشاں دہلیز کے اکرام پر

ایڑیاں رگڑے گا ہر اک نا خُدائی کا شرَف

 

سب شرَف اس نسبتِ بے مثل سے ہیں منعکس

کافی ہے مقصودؔ مجھ کو خاک پائی کا شرَف

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

وردِ زباں ہے جب سے رسولِ خدا کا نام
خدا نے خود لکھی قرآن میں مدحت محمد کی
رحمتِ محبوبِ داور ہوگئی
حسنِ بے مثل کا اِک نقشِ اُتم ہیں، واللہ
کوئے یثرب کو مسیحا کہہ دیا تو ہو گیا
مَیں کم طلب ہوں پہ شانِ عطا تو کم نہیں ہے
ہر سمت تذکرے ہیں تمہارے کمال کے
شہرِ امکان میں وہ ساعتِ حیرت آئے
اے خدائے ہر دوعالم بہر حسان رسول
صبیح آپ ، صباحت کی آبرُو بھی آپ

اشتہارات