اردوئے معلیٰ

Search

سفید جسم مہکتی ہواؤں جیسا ہے

وہ چہرہ زرد ہے پھر بھی شعاعوں جیسا ہے

 

نہ جانے کون سا جھونکا کدھر کو لے جائے

مرا سفر تو بھٹکتی صداؤں جیسا ہے

 

تھا ایک میرا بھی سورج ، سو وہ تو ڈوب گیا

یہ جسم اب تو اندھیری گپھاؤں جیسا ہے

 

میں اپنے آپ سے سہما ہوا ہوں ڈرتا ہوں

ہے کون جو میرے اندر بلاؤں جیسا ہے

 

نہ دوستی ، نہ دلیری ، نہ حسنِ دل آرام

تمہارے شہر میں کیا میرے گاؤں جیسا ہے

 

ہے یوں تو ہر طرح انمول اپنا یار ، مگر

بس عادتاََ ہی ذرا بے وفاؤں جیسا ہے

 

میں ہوں صدف کی طرح ایک بوند کا طالب

ترا کرم تو برستی گھٹاؤں جیسا ہے

 

لڑی ہے آنکھ تو اُس سے کہ افضل احسنؔ جو

ہر ایک بات میں بالکل خداؤں جیسا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ