اردوئے معلیٰ

Search

سمجھ رہے ہیں مگر بولنے کا یارا نہیں

جو ہم سے مل کے بچھڑ جائے وہ ہمارا نہیں

 

ابھی سے برف الجھنے لگی ہے بالوں سے

ابھی تو قرض مہ و سال بھی اتارا نہیں

 

بس ایک شام اسے آواز دی تھی ہجر کی شام

پھر اس کے بعد اسے عمر بھر پکارا نہیں

 

ہوا کچھ ایسی چلی ہے کہ تیرے وحشی کو

مزاج پرسی باد صبا گوارا نہیں

 

سمندروں کو بھی حیرت ہوئی کہ ڈوبتے وقت

کسی کو ہم نے مدد کے لیے پکارا نہیں

 

وہ ہم نہیں تھے تو پھر کون تھا سر بازار

جو کہہ رہا تھا کہ بکنا ہمیں گوارا نہیں

 

ہم اہل دل ہیں محبت کی نسبتوں کے امین

ہمارے پاس زمینوں کا گوشوارہ نہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ