اردو معلی copy
(ہمارا نصب العین ، ادب اثاثہ کا تحفظ)

سمندروں کے درمیان سو گئے

سمندروں کے درمیان سو گئے

تھکے ہوئے جہاز ران سو گئے

 

دریچہ ایک ہولے ہولے کھل گیا

جب اُس گلی کے سب مکان سو گئے

 

سلگتی دوپہر میں سب دکان دار

کُھلی ہی چھوڑ کر دکان سو گئے

 

پھر آج اک ستارہ جاگتا رہا

پھر آج سات آسمان سو گئے

 

ہوا چلی کُھلے سمندروں کے بیچ

تھکن سے چور بادبان سو گئے

 

سحر ہوئی تو ریگ زار جاگ اٹھا

مگر تمام ساربان سو گئے

 

اُس کی آنکھ کی پناہ اب نہیں نصیب

پلک پلک وہ سائبان سو گئے

 

جمال آخر ایسی عادتیں بھی کیا

کہ گھر میں شام ہی سے آن سو گئے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

تصویر تیری یوں ہی رہے کاش جیب میں
اتنا پڑا ہے جسم پر گردوغبارِ عشق
تہہ قوسین سوتے ہیں سر محراب سوتے ہیں
غم چھایا رہتا ہے دن بھر آنکھوں پر
مِری شہ رگ ہے، کوئی عام سی ڈوری نہیں ہے
اب کچھ بساطِ دستِ جنوں میں نہیں رہا
تیری آغوش کی جنت سے نکالے ہوئے ہم
وصل ہو ہجر ہو کہ تُو خود ہو
شق ہوئی مصرِ تمنا کی زمیں، دفن ہوئے
مآلِ سوزِ عشقِ نہاں صرف راکھ ہے