اردوئے معلیٰ

سمندر میں اترتے جا رہے ہیں

سمندر میں اترتے جا رہے ہیں

یہ دریا جو بپھرتے جا رہے ہیں

 

ہواؤں کے مقابل ڈٹ گئے تھے

سو، اب ہر سُو بکھرتے جا رہے ہیں

 

اکائی کی وہی خواہش دلوں میں

بدن دونوں ٹھٹھرتے جا رہے ہیں

 

وہ چہرہ فتح میں کیسا لگے گا

اسی نشے میں ہرتے جا رہے ہیں

 

کتابِ وصل کی تکمیل کر کے

حروف اس کے بسرتے جا رہے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ