سننے والا ہے جو دعاؤں کا

سننے والا ہے جو دعاؤں کا

دھوپ میں مہتمم ہے چھاؤں کا

 

سب عبادات ہیں اسی کے لیے

مدعا ہے وہی ثناؤں کا

 

انتظام اس کے پاس ہے سارا

بارشوں بادلوں ہواؤں کا

 

ہو کے واقف بھی سارے عیبوں سے

پردہ رکھتا ہے سب خطاؤں کا

 

اس کی عظمت وہ کیا سمھ پائے

جو ہو بندہ کئی خداؤں کا

 

سلسلہ اس سے جا کے ملتا ہے

ابتداؤں کا انتہاؤں کا

 

کون اس کے سوا سہارا ہے

ساری دینا کے بے نواوں کا

 

علم ہے اے بلال اس کو سب

مجھ سے عاجز کی التجاوں کا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

یارب ہے بخش دینا بندے کو کام تیرا
جو جسم و جاں کے ساتھ ہے شہ رگ کے پاس ہے
حمد ہے بے حد مرے پروردگار
ہے حسن زندگی کا، حسن کلام تیرا
وہ یکتا منفرد سب سے جدا ہے، خدائے مصطفیٰؐ میرا خدا ہے
خدا ہم ورد و مُونس ہے، شفیق و مہرباں ہے
خدا کی مہرباں ہے ذات لکھوں
خدا مونس، شفیق و مہرباں ہے
کرو مخلوق کی خدمت، یہی خالق کا فرماں ہے
محبت کی صدا ہے اِسمِ اعظم