اردوئے معلیٰ

Search

سنگِ ستم سے کوئی بھی شیشہ نہیں بچا

محفوظ وہ رہا جو دریچہ نہیں بچا

 

بازیگرانِ شہر سیاست ہوئے خموش

اب دیکھنے کو کوئی تماشہ نہیں بچا

 

کیسی چڑھی ہے دھوپ سرِ شہر بد لحاظ

برگد ہرے بھرے ہوئے سایا نہیں بچا

 

پھیلاؤ کی ہوس بھرے دریا کو پی گئی

پانی چڑھا تو کوئی کنارہ نہیں بچا

 

بجھنے لگے چراغ مرے جسم و جان میں

دل میں لہو بقدرِ تمنا نہیں بچا

 

اک نقشِ لالہ رنگ تو رستے کو مل گیا

بیشک ہمارے پاؤں میں جوتا نہیں بچا

 

لگتا ہے یوں، یا واقعی قحط الرجال ہے

لوگوں کے درمیان حوالہ نہیں بچا

 

اہلِ ہوس کی حاشیہ آرائی سے ظہیرؔ

تاریخ درکنار صحیفہ نہیں بچا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ