سوئی قسمت جگائیں گے آقا

سوئی قسمت جگائیں گے آقا

جلد طیبہ بلائیں گے آقا

 

میری آنکھوں کو بھی وہ نورانی

اپنے جلوے دکھائیں گے آقا

 

حالِ دل سن کے میرا مجھ کو بھی

اپنے سینے لگائیں گے آقا

 

محفلِ نعت میں سجاؤں گا

میرے بھی گھر میں آئیں گے آقا

 

مجھ پہ رحمت کی اک نظر کر کے

میری بگڑی بنائیں گے آقا

 

قبر کا خوف مٹ گیا فوراََ

جب سنا اس میں آئیں گے آقا

 

مجھ خطاکار کی خطاؤں کو

حشر میں بخشوائیں گے آقا

 

میرے دل میں بھی وہ سمائیں گے

دل کی دنیا بسائیں گے آقا

 

نعت کے ہی سبب رضاؔ کو بھی

تاجِ مدحتِ دلائیں گے آقا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

شــیوہ عـــفو ہــو ، پیـــمانہ سالاری ہـــو
مشکلوں میں پکارا کرم ہی کرم
فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر ، ہم بھی بے بس نہیں ، بے سہارا نہیں
تمہیؐ سرور تمہیؐ ہو برگزیدہ یارسول اللہؐ
اگر میں عہد رسالت ماب میں ہوتا
جان ہیں آپؐ جانِ جہاں آپؐ ہیں
ہر موج ہوا زلف پریشانِ محمدؐ
رشکِ ایجاب تبھی حرفِ دعا ہوتا ہے
قصہء شقِّ قمر یاد آیا​
ہم گداؤں بے نواؤں کا سہارا آپ ہیں

اشتہارات