اردوئے معلیٰ

Search

سوئے بطحا کبھی میرا سفر ہو

مری منزل ہی آقا کا نگر ہو

 

وہ جن رستوں سے ہوں سرکار گزرے

انہی رستوں سے میرا بھی گزر ہو

 

ہوں میرے سامنے روضے کے جلوے

ہر اک لمحہ زیارت میں بسر ہو

 

دیوانہ وار میں گلیوں میں گھوموں

نہ دنیا کی نہ اپنی کچھ خبر ہو

 

میں چوموں خاک اُن راہوں کی ہر دم

یہی بس کام اک شام و سحر ہو

 

تمنا ہے یہیں دم میرا نکلے

مری آہوں میں اتنا تو اثر ہو

 

ہیں ذرّے بھی درخشاں جس زمیں کے

اسی دھرتی پہ میرا مستقر ہو

 

مقدر رنگ لائے ناز کا گر

جبیں میری ، نبی کا سنگِ در ہو

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ