اردوئے معلیٰ

سوادِ عشق نبی کیا کمال ہوتا ہے

سوادِ عشق نبی کیا کمال ہوتا ہے

دیارِ روح میں حسن و جمال ہوتا ہے

 

جو اس چراغ کا پروانہ بن کے رہ جائے

اسے نہ کھال نہ جاں کا خیال ہوتا ہے

 

سخاوتوں کے خزانے نثار ہوتے ہیں

عقیدتوں کا سفر لازوال ہوتا ہے

 

پھر ایک بار زیارت سے جاں مشرف ہو

لبوں پہ شام و سحر یہ سوال ہوتا ہے

 

تمام وقت کے حاکم اسے سلام کریں

تمہاری راہ میں جو پائمال ہوتا ہے

 

گزر کے اس کی محبت کے امتحانوں سے

کوئی حسینؓ تو کوئی بلالؓ ہوتا ہے

 

نبی کا ہو کے جسے آسؔ موت آ جائے

وہ شخص مرتا نہیں لازوال ہوتا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ