اردوئے معلیٰ

سوچتا ہوں صیدِ مرگ ِ ناگہاں ہو جاؤں گا

سوچتا ہوں صیدِ مرگ ِ ناگہاں ہو جاؤں گا

دل کے باغیچے سے گُلہائے جنوں چُننے سے قبل

اور مٹی اوڑھ کر اک قبر میں سو جاوٗں گا

حیرتوں والے صحیفوں کے سُننے سے قبل

 

جب ستاروں سے دمکتی شب کے خدّو خال پر

دیکھتا ہوں روشنی اِک غیر فانی عشق کی

سوچ کر افسردہ ہوتا ہوں میں اپنے حال پر

مجھ کو مُہلت ہی نہیں اِس آسمانی عشق کی

 

سوچتا ہوں ، اے میری محبوبۂ یک دو نَفس

تیرے حُسن ِ بے کراں کو کب تلک تَک پاؤں گا

جب اجل آ کر کہے گی : شاعرِ نادان! بس

تب میں ہستی ترک کر دوں گا ، فنا ہو جاؤں گا

 

آنکھ مٹ جائے گی ، سارے خواب گُم ہو جائیں گے

عشق اور شُہرت عدم آباد میں کھو جائیں گے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ