اردوئے معلیٰ

Search

سُنتے ہی رب کی حمد زبانِ حضور سے

جُڑنے لگا ہے سلسلہ کیف و سرور سے

 

عجز و خلوص سے جو اطاعت خدا کی ہو

خاطر وہاں پہ ہوگی شرابِ طہور سے

 

غارِ حرا و طور یہ شمس و قمر نجوم

کرتے ہیں اِکتساب خدا ہی کے نُور سے

 

وہ ربِّ کائنات ہے حاجت روا بھی ہے

جو مانگنا ہے مانگ لو ربِّ غفور سے

 

اِک حمدِ پاک کہنے کو ربِّ جلیل کی

کیف و سرور مانگ لو پیارے حضور سے

 

پرورد گار تجھ سے تو واقف نہیں تھا میں

تیرا پتہ تو مجھ کو مِلا ہے حضور سے

 

طاہرؔ شعورِ حمد یہ سچ ہے ہمیں مِلا

قرآن سے مِلا ہے ، مِلا ہے زبور سے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ