سُن لیا چشمِ تر کی نمی کے سبب

 

سُن لیا چشمِ تر کی نمی کے سبب

ہوگیا سب عطا اُسؐ غنی کے سبب

 

آرزو ہے کسے مال و زر کی یہاں؟

سب میسّر ہے عشقِ نبیﷺ کے سبب

 

مل رہا ہے مجھے تو طلب سے سوا

کچھ بھی حاجت نہیں ہے سخیؐ کے سبب

 

رحمتیں ہیں تریؐ رحمتوں کے طفیل

روشنی ہے تریؐ روشنی کے سبب

 

مجھ کو بھی اذن ہو حاضری کا حضورؐ

آرزوئوں کی خاطر ، سعی کے سبب

 

خود بہ خود آرہے ہیں مضامینِ نعت

آپؐ سے میری وابستگی کے سبب

 

اپنی بخشش کا امکاں قوی ہے مجھے

مرتضیٰؔ مدحتِ سیدّی کے سبب

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

بڑا احسان ہےمجھ پرخدا کا
یہ اُمّتی ناچیز ہو، دربارِ نبی ہو
مومن وہی ہے ان سے جو عہد وفا کرے
مجھے نعت نے شادمانی میں رکھا
آپ سے پہلے جہانِ خشک و تر کچھ اور تھا
تجھ سے ہے بہار جانِ عالم
پیام لائی ہے باد صبا مدینے سے
تو شاہِ خوباں، تو جانِ جاناں، ہے چہرہ اُم الکتاب تیرا
یادِ نبیؐ میں گم ہو جانا کتنا اچھا لگتا ہے
محبوب خدا احمد مختار کی صورت