اردوئے معلیٰ

سکوتِ شام میں گونجی صدا اُداسی کی

کہ ھے مزید اُداسی دوا اُداسی کی

 

بہت شریر تھا مَیں اور ھنستا پھرتا تھا

پھر اِک فقیر نے دے دی دُعا اُداسی کی

 

چراغِ دل کو ذرا احتیاط سے رکھنا

کہ آج رات چلے گی ھوا اُداسی کی

 

امورِ دل میں کسی تیسرے کا دخل نہیں

یہاں فقط تری چلتی ھے یا اُداسی کی

 

چراغ ِ دل کو ذرا احتیاط سے رکھنا

کہ آج شام چلے گی ہوا اداسی کی

 

وہ امتزاج تھا ایسا کہ دنگ تھی ہر آنکھ

جمال ِ یار نے پہنی قبا اُداسی کی

 

اِسی اُمید پہ آنکھیں برستی رھتی ھیں

کہ ایک دِن تو سُنے گا خُدا اُداسی کی

 

شجر نے پُوچھا کہ تُجھ میں یہ کس کی خوشبُوھے؟

"​ھوائے دشتِ جنوں نے کہا "​ اُداسی کی

 

بہت دِنوں سے میں اُس سے نہیں ملا فارس

کہیں سے خیر خبر لے کے آ اُداسی کی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات