اردوئے معلیٰ

بیٹے کی شادی پر

چھوڑ کر اپنا پری خانۂ گلشن سہرا

کس کی شادی میں چلا خوب یہ بن ٹھن سہرا

 

جوں ہی پہنچا ہے سرِ بزم یہ روشن سہرا

ہر طرف شور ہوا اھلاً و َّسہلاً سہرا

 

کیف پرور ہے خوشا بر رخِ روشن سہرا

للہ الحمد کہ دیکھا سرِ ‘احسن’ سہرا

 

قابلِ دید ہے حسناً وَّ جمالاً سہرا

کسی ماہر ہی نے گوندھا ہے یہ پر فن سہرا

 

مقتبس آج ہے از جلوۂ احسن سہرا

ہو گیا اور طرح دار و مزین سہرا

 

اک طرف نورِ ھدیٰ ایک طرف نورِ قمر

کیسے ممکن ہے کہ اب بھی نہ ہو روشن سہرا

 

عطر بیزی ہے وہ سہرے سے کہ سبحان اللہ

کیوں نہ ہو ہے بھی تو یہ حاصلِ گلبن سہرا

 

ایک دھاگے میں پروئے گئے گل ہائے چمن

یہ اشارا ہے کہ ہے عشق کا بندھن سہرا

 

اف جمالِ رخِ نوشہ سے ہوا ہے بے خود

کبھی چومے سرِ نوشہ کبھی گردن سہرا

 

اس قدر حبّ ہے نوشہ سے کہ حباً جمّا

سب نچھاور کئے دیتا ہے یہ تن من سہرا

 

قلبِ نوشاہ میں بس جائے نہ کیوں حبِ عروس

قل ھو اللہ احد سے ہے معنون سہرا

 

پائے نوشاہ کے قدموں کا ارادہ لے کر

ابھی پہنچا ہے فقط تا سرِ دامن سہرا

 

آج بھر پور محبت کا خزینہ دل ہے

فکر و غم پر ہے لگائے ہوئے قدغن سہرا

 

دلِ ہمشیر ہے شاداں دلِ مادر فرحاں

کبھی نوشاہ کو دیکھیں کبھی روشن سہرا

 

مثلِ مادر ہے ممانی کی خوشی کیا کہنے

مست ہیں دیکھ کہ وہ بر رخِ روشن سہرا

 

خالہ خالو کی یہ بھانجہ سے محبت واللہ

دیکھنے آئے کراچی سے خصوصاً سہرا

 

دیدِ نوشہ کے لئے بھائی بہن سب بیتاب

ان کی مشتاق نگاہی کو ہے الجھن سہرا

 

سن کے سہرے کو ہے محفل میں بڑی سرگوشی

کس نے احسن کا لکھا اس قدر احسن سہرا

 

اے نظرؔ مانگ دعا روک کے رہوارِ سخن

گھر کو لے جائے مع الخیر یہ دلہن سہرا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات