اردوئے معلیٰ

سیدّہ ، خیرالنساء ، اُم الائمۂ کرام

سیدّہ ، خیرالنساء ، اُم الائمۂ کرام

مادرِ آلِ محمد ، دُخترِ خیرالانام

رشکِ مریم ، زوجۂ مولا علی ، ذی احتشام

جملہ مستورات کی سردار ومخدومہ سلام

 

السّلام اے نورِ عینِ سرورِ کون و مکاں

بیٹے سردارانِ جنت، باپ فخرِِ دو جہاں

قافلہ سالارِ عظمت آپ خاتونِ جناں

عرش کو ہے ناز جس پر آپ کا ہے آستاں

 

فاطمہ زھرا ہیں بے شک شکلِ انسانی میں حور

رحمۃ للعالمیں کی آپ ہیں آنکھوں کا نور

جس سے یہ راضی ہوں ، اُس سے راضی ہوربِ غفور

میری جاں ہیں آپ ، فرماتے تھے یہ میرے حضور

 

مرحبا ، صلِ علیٰ کہ آپ ہیں بنتِ رسول

مادرِ آلِ نبی ، گلدستۂ عصمت کا پھول

فاطمہ زہرا ہیں ذکیہ ، راضیہ ، عذرا ، بتول

حشر میں ہو گی شفاعت آپ کی بے شک قبول

 

مخزنِ فخر و توکّل، معذنِ عظمت سلام

منبعِ جود وکرم ، اے سربسر رحمت سلام

السّلام اے پنجتن کی شان اور شوکت سلام

محورِ اہلِ کِسا، سادات کی عزت سلام

 

اہلِ بیتِ پاک کا بھی مرکز و محور ہیں آپ

نازشِ کونین بھی ہیں ، فخرِ پیغمبر ہیں آپ

ہمسرِ مولودِ کعبہ ، ہمدمِ حیدر ہیں آپ

دین و دنیا کے جمال و حسن کا مظہر ہیں آپ

 

آپ کی ہر دو ہتھیلی پر مشقت کے ہیں پھول

سورۂ کوثر کی بے شک آپ ہیں شانِ نزول

ہیں طہارت یاب یوں دنیا میں کہلائیں بتول

آیۂ تطہیر کا عنوان ہیں بنتِ رسول

 

باعثِ رحمت ، برائے رحمتہ للعالمیں

آپ صادق اور امیں کے بھی خصائل کی امیں

آپ کے تو در کے بھی دربان ہیں روح الامیں

آپ سا کوئی نہیں ہے ، کوئی ہو سکتا نہیں

 

شاہزادی شاہِ دوعالم کی ، یکتا ہر ادا

آپ کی پوشاک میں بھی کام ہے پیوند کا

فقر و فاقے میں بھی یہ دیکھی گئی شانِ سخا

کوئی خالی ہاتھ اس دَر سے نہیں لوٹا گدا

 

احمدِ مرسل بجا لاتے تھے ان کا احترام

ان کی آمد پر کھڑے ہو کر وہ کرتے تھے سلام

مرحبا! یہ شان ، یہ عزت ، یہ عظمت ، یہ مقام

مرتبت ایسی ہے کس کی؟ ہے کوئی کیا اور نام

 

اپنی پلکیں ان کے رستے میں بچھا دیتے تھے آپ

یوں بھی عظمت ان کی دنیا کو دکھا دیتے تھےآپ

ان کی خاطر فرش پر کملی سجا دیتے تھے آپ

خود کھڑے ہوکے انہیں اس پر بٹھا دیتے تھے آپ

 

ہے کوئی ہستی جسے یہ شان، یہ عزت ملِی؟

فرش پر رہتے ہوئے بھی عرش کی رفعت ملِی

ان کو دربارِ رسالت میں بھی افضلیت ملِی

آپ کو ورثے میں بھی قرآں ملا، حکمت ملی

 

ناز ہے تقوے کو جس پر آپ کی ہے زندگی

رشک پیغمبر کریں ایسی ہے عصمت آپ کی

ہاں ! لقب اُمّ ابیہا کا بتاتا ہے یہی!

ہیں نبی سے آپ بے شک ، آپ ہی سے ہیں نبی

 

باپ سے بیٹی کا ہونا تو سمجھ آتا ہے پر

باپ کا بیٹی سے ہونا عقل سے ہے بالاتر

پھول ، پھل ، چھاؤں کا منبع کون؟ کہنا سوچ کر

درحقیقت آپ ہیں باغِ رسالت کا شجر

 

یوں ملا ہے آپ کو اُم ابیھا کا خطاب

آپ سے بے شک نبوت اور رسالت فیضیاب

سورۂ کوثر ہے دشمن کے سوالوں کا جواب

آپ سے نسلِ محمد کی بقا ، عصمت مآب

 

بخت یوں بھی اپنے بچوں کا جگا دیتی ہیں آپ

لوریاں قرآن کی دے کر سُلا دیتی ہیں آپ

رات کے پچھلے پہر اُن کو اُٹھا دیتی ہیں آپ

رحمتیں کیسے اترتی ہیں ، دِکھا دیتی ہیں آپ

 

آپ ہی کے گھر میں ہے ختمِ رسالت مرحبا

آپ کے گھر کا تفاخر ہے امامت، مرحبا

شان کے شایان ہے بے شک ولایت مرحبا

آپ ہیں سرچشمۂ رُشد و ہدایت مرحبا

 

آپ ہیں آنکھوں کی ٹھنڈک سرورِ کونین کی

آپ کے قدموں تلے جنت بھی ہے حسنین کی

روشنی باقی ، ہے برکت آپ کے قدمین کی

ہیں نچھاور آپ پر سب رحمتیں دارین کی

 

صحنِ بزمِ دوجہاں میں چاندنی زہرا کی ہے

آج عورت کا تقدس ، روشنی زہرا کی ہے

جو رِدا تارِ مقدس سے بنی زہرا کی ہے

ہے بدن پر جو حرم کے اوڑھنی زہرا کی ہے

 

سیّدہ کی چادرِ تطہیر کو میرا سلام

ان کی مدحت میں ہر اِک تحریر کو میرا سلام

شان میں زہرا کی ہر تسطیر کو میرا سلام

آیۂ تطہیر کی تفسیر کو میرا سلام

 

دولتِ دُنیا و دیں ہے آپ کے دامان میں

ہے عقیدت آپ کی شامِل مِرے ایمان میں

سوچئے، اَب کیا کہوں میں فاطمہ کی شان میں

آپ کی لکھی ہوئی ہے منقبت قرآن میں

 

رات دن تسبیح ہے ، تحمید ہے ، تکبیر ہے

فاطمی تسبیح ہے کیا ؟ نسخۂ اکسیر ہے

یہ وظیفہ ایسا ہے، جس میں بڑی تاثیر ہے

ذکر سے دُکھ دور کرنا آپ کی تدبیر ہے

 

تولنا ممکن کہاں ہے؟ رحمتِ پروردگار

آپ کے بے شک محاسن کا نہیں کوئی شمار

مجھ پہ ہو جائے کرم کی اک نظر ہے انتظار

ہوں تہی داماں مگر بس آپ پر ہے اعتبار

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ