اردوئے معلیٰ

سید فخرالدین بلے ، ایک زندہ اور نفیس شخصیت

سید فخرالدین بلے ، ایک زندہ اور نفیس شخصیت
سید فخرالدین بَلّے ایک ادیب، شاعر، دانشور اور مذہبی اسکالر ہونے کےساتھ ساتھ ایک بڑی نفیس شخصیت کے مالک تھے ۔نفاست ان کی شخصیت،لباس اور رکھ رکھاؤ میں رچی بسی تھی ۔ان کی تحریر اور تقریرتاریخ ، تصوف ،ادب اور مذاہب عالم کےگہرےمطالعے کی گواہی دیتی نظرآتی تھی ۔پاکستانیت ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی ۔وہ پاکستان کی خوبصورتیوں کے گُن گاتے نظرآتے تھے ۔حب الوطنی کے جذبے سے سرشار تھے ۔دھرتی کاقرض ادا کرنا اپنا فرض سمجھتے تھے ۔دنیا سےچلے گئے لیکن اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں زندہ ہیں ۔
——
سید فخرالدین بلے کی ادبی اور ثقافتی خدمات
——
میں نے ڈائریکٹر انفارمیشن پنجاب، ریذیڈنٹ ڈائریکٹر ملتان آرٹس کونسل اور ریذیڈنٹ ڈائریکٹر راولپنڈی آرٹس کونسل کی حیثیت سے سیدفخرالدین بلے نے بڑی بھرپور محفلیں سجائیں ۔ جہاں جہاں تعینات رہے، مجھے بھی اپنی محفلوں میں شرکت کےمواقع مہیاکرتے رہے ۔مصورانہ خطاطی اور مصوری کی نمائشوں کابڑے پیمانے پر اہتمام کیا ۔کتابوں کی پذیرائی کیلئے تقاریب سجاکر انہوں نے بہت سے فن کاروں اورادیبوں کو متعارف کرایا ۔ان فن کاروں کو دنیا نے آسمان ِ شہرت پر چمکتے دمکتے دیکھا۔اسٹیج کیلئے بھی انہوں نے 25روزہ جشن تمثیل سجاکر ملتان کی ثقافتی زندگی میں ہلچل مچائے رکھی۔وہ اسٹیج، ادب اور فنون ِ لطیفہ کے شعبوں میں جوہرقابل کی تلاش میں رہتے تھےاور نئی نسل کی نگہداشت اور تربیت کیلئے اہم منصوبے ان کے دل اور دماغ میں ہمیشہ موجود ہوتے تھے
۔وہ دنیا سے جاتے جاتےاپنا پورا عہد ہی اپنے ساتھ لےگئے
——
یہ بھی پڑھیں : سید فخرالدین بلے علیگ کی شخصیت اور فن پر شاہکار کتاب
——
سید فخرالدین بلے۔ ممتازماہرتعلقات عامہ
——
سید فخرامام نے سید فخرالدین بلے کو اپنے عہد کا ممتاز ماہرتعلقات عامہ قراردیا اوران کی وفات پراظہارتعزیت کرتے ہوئے کہا جب میں اسپیکر قومی اسمبلی بنا تو انہوں نے میری توجہ اس جانب دلائی کہ آج کے دور میں قومی اسمبلی میں تعلقات عامہ کا شعبہ ضرور قائم ہونا چاہئیے، ان کی طرف سے توجہ دلانے پر میں نے سوچ لیا تھا کہ یہ شعبہ بھی ضرور بنے گا اور یہ کام سید فخرالدین بلے کو ہی سونپا جاسکتا ہے کیونکہ ان سے زیادہ موزوں شخصیت اس شعبے کیلئے میری نظر میں کوئی اور نہیں۔
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ