اردوئے معلیٰ

سید فخرالدین محمد بلے علیگ کی حیات و خدمات کی کائنات

سید فخرالدین محمد بلے علیگ کی حیات و خدمات کی کائنات
اللہ کی لامتناہی کائنات میں ایک نظام کے تحت بے شمار عظیم نوتارے عالَمِ عدم سے وجود میں افشا ہوتے ہیں اور پھر معدوم ہو کر عدم کے عالم میں لوٹ جاتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں انگنت کہکشاؤں کی انجمن جگمگانے لگتی ہیں۔ ایک تصور ہے کہ انہیں انجمن کے آفتاب، مہتاب و لا تعداد اختران فلک کی ضیا باری سے بنی نوع انسان پر ان کے اثرات مرتب ہوتے ہیں اورپھرذہانت کے اعتبار سے انسان کے شعور بھی بیدار ہوکر اپنے گردو پیش کا جائزہ لینے کے لئے آمادہ و سرگرم ہو نے لگتے ہیں اور یہی سرگرمیاں بعد میں انکشافات، ایجادات و دریافت کےلئے محرک بنتی ہیں۔
کسی بھی زبان کا ادب بھی اللہ کی کائنات کی طرح لامحدود و بے انتہا ہے۔ اس کائنات میں زبانیں بھی کہکشاؤں کی ہم مثل ہوتی ہیں ، جن میں افکار و خیالات کے انگنت نظام شمسی ہیں ،جہاں لاتعداد ادبا و شعرا اپنے اپنے فنی محورپر تخلیقی گردشوں میں پیہم سرگرداں رہتے ہیں۔یہ اجرام فلکی کی مانند ادب کے آسمان پر طلوع و غروب کے معمول مراحل سے گزرتے رہتے ہیں۔ ان گردشوں میں عمرانیت ،معاشرت،معیشت، سیاست،ثقافت ، اقتصادیت و لسانیت جیسے شعبہ جاتِ حیات بھی اپنے اپنے ارتقا ء کے دورانیئے عبور کرتے ہوئے خوب سے خوب تر ہیئتوں میں ظہور پذیر ہوتے ہیں۔اردو زبان کا ادب بھی اپنے نثری و شعری ماہیت کی بنیاد پر ایک غیر معمولی سرمایہ رکھتا ہے۔اس کی سرمایہ کاری میں ایک طرف سر سید احمد خاں ، الطاف حسین حالی، مولانا شبلی نعمانی، ڈپٹی نذیر احمد اور مولانا حسین آزاد نے اردو کے نثری کینوس پر پُر کشش رنگوں سے بے مثال تصویریں بنائیں تو وہیں دوسری جانب اردو شاعری کے سنگ مرمر کو تراش خراش کر اس سے امیر خسرو، ولی دکنی، میر تقی میر، مرزا غالب، ڈاکٹر محمد اقبال نے حیرت انگیز فلک بوس مجسمے تراشے۔
———-
یہ بھی پڑھیں : کتاب کا مقدمہ ” ہم سید فخرالدین بلے کے قرض دار ہیں”۔
———-
ان میں غالب، حالی و اقبال نے تو منثورات و منظومات دونوں میں یکساں کمالات کے جوہر دکھائے۔ا گرچہ معدود چند نام ہی فی الوقت اس قلم کے احاطے میں آئے، تاہم ان کے ہم قدم بے شمار مشاہیر ادب کی خدمات انتہائی اعلیٰ درجے کی اہمیت کی حامل ہیں ۔جن کی بدولت اردو ادب کے ارتقا و فروغ کی رفتار اس قدر تیز ہوئی کہ دنیا کی کسی بھی زبان کا ادب اس کے شایان شان کھڑا ہو جائے تو اردو ادب کمتر نہیں نظر آ سکتا ۔گذرتے وقت کے ساتھ ادب میں ماورات کی جا حقیقت پر مبنی خیالات اپنی نشست پانے لگے ۔ طرز تحریر اور اسلوب میں ایک نئے نکھار کا آغاز ہوا۔ انداز بیان میں شگفتگی اور عبارتوں میں دلکشی کے ہمراہ خیالات میں ندرت نثر و نظم کے کسی بھی فن پارے کو طرہِء امتیاز بخشنے میں معاونت فراہم کرنے لگے۔حتی کہ نثر و نظم بھی جدیدیت سے متاثر ہونے لگیں اور اس کاج میں حالی، شرر، سرشار، راشد الخیری، پریم چند، خواجہ حسن نظامی ، مولانا آزاد، مولوی عبدالحق، سجاد حیدر یلدرم،نیاز فتح پوری، آل احمد سرور، اور مجنوں گورکھپوری جیسے نثر نگاروں نے اردو نثر کو نئی جہت و سمت سے روشناس کرایا ۔ انہیں مشاہیر ادب میں ایک ایسی شخصیت بھی شامل ہیں، جو اپنی ادبی کائنات کے خالق ہیں۔ نثر و نظم میں ہر اعتبار سے انہیں طرہ ء امتیاز حاصل ہے۔ وہ اسم با مسمیٰ شخصیت سید فخرالدین محمد بلے ہیں، جو 6اپریل 1930 کو اتر پردیش میں واقع ضلع میرٹھ کے ہاپوڑ نامی مقام پر زبان اردو کے اس جہان ادب کو سنوارنے اور چار چاند لگانے کے مقصد سے اس دنیا میں ولادت کی سعادت حاصل کرتے ہیں ۔عہد طفلی میں ہی رشید احمد صدیقی، مولوی عبدالحق ، تلوک چند محروم، اور مولانا ابوالکلام آزاد جیسی اردو کے نہ جانے کتنی مایہ ناز ہستیوں کی مصاحبت سید بلے کی ذہن سازی میں بڑی اہمیت کا درجہ رکھتی ہے۔ 40 کے عشرے میں تو سید بلے کل شعبہء حیات میں اپنے گہرے نقوش چھوڑنے کے اہل ہوجاتے ہیں اور ہر جگہ اپنی موجودگی کا خوبصورت احساس بیدار رکھتے ہیں ۔ ان کی طالب علمی کا زمانہ بھی نہایت ہی عالیشان و قابل رشک رہا ہے۔ الہٰ آباد بورڈ کے امتحان میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد وہ علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی کو حصول تعلیم کا منبع بناتے ہیں۔وہاں بھی وہ بحیثیت طالب علم ایک منفرد و اعلیٰ مقام پر بہت جلد ہی نظر آنے لگتے ہیں۔ علی گڑھ کی تعلیمی زندگی سے گویا وہ اپنے لئے ایک نئی دنیا کی دریافت میں لگ جاتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے شاعری و انشا پردازی میں ان کا جدا گانہ طرز تحریر انہیں دنیائے علم ادب میں ایک عظیم دانشور کے طور پر متعارف کراتا ہے۔ اس تعارف سے یہ بھی منکشف ہوتا ہے کہ وہ ایک نیک اور حساس انسان کا دل بھی رکھتے ہیں اور یہی سبب ہے کہ وہ اپنے گرد و پیش کے کرب سے مضطرب ہو کر اسی کرب کے نمائندہ بن جاتے ہیں۔وہ عوام کے مسائل کو اپنے قلمی حلقے میں لا کر ایک مسیحا کی طرح نمودار ہوتے ہیں۔ وہ ایک خوشگوار اور مثالی معاشرے کی تشکیل و تعمیر کا خواب دیکھنے کی جرات کرتے ہیں ۔ وہ اسی غایت سے صحافت کو اپنے خیالات کی ترسیل و ترویج کا خوبصورت ذریعہ بناتے ہیں۔سر سید کی طرح وہ بھی اصلاح معاشرہ کی آتش کدہ میں بے خطر کود پڑتے ہیں اور پھر مظلوموں، ناداروں اور بے کسوں کی زندگی کو گلزار بنانے کی مہم میں لگ جاتے ہیں۔وہ محتاجوں کے درد و کرب کو اپنی آواز میں شامل کرکے ان ایوانوں تک پہنچانے میں ہمیشہ سرگرداں و بے چین رہا کرتے ہیں، جہاں سے ان کے غموں کا مداوا ممکن ہے۔اخبارات میں کالم نگاری و جرائد میں مختلف موضوعات پر مضمون نگاری انہیں ادارت کی اُور کھینچنا شروع کرتی ہے اور پھر اس کی “جھلک” علی گڑھ میں ہی دیکھنے کو مل جاتی ہے۔ اس کے بعد ادارت کا یہ سلسلہ اس قدر جاری ہوتا ہےکہ درجن سے بھی زائد جرائد کے بانی و چیف ایڈیٹر کی حیثیت سے ایک طویل عرصے تک اپنی خدمات انجام دیتے ہیں اور بے صدا عوام کی آواز بن جاتے ہیں۔اصل میں علی گڑھ سے ہر ماہ جاری ہونے والی “جھلک” ہی ان کی ادارت کی وہ زمینی بنیاد ہے ،جس پر صحافت کی ایک فلک بوس عمارت قائم ہوجاتی ہے ۔ قارئین پر ان کی صحافت کااتنا عمیق اثر ہوتا ہے کہ اس سے سیاسی، ادبی و علمی بصیرت کے در وا ہونے لگتے ہیں اور پھر عوام میں ایک ایسے شعور کی بیداری کا آغاز ہونے لگتا ہے جس کا ایک مثالی معاشرہ متقاضی ہو تا ہے۔
———-
یہ بھی پڑھیں : سید فخرالدین بلے , ایک منفرد تخلیقی شخصیت
———-
اہل خاندان کی صوفیانہ سلسلہ سے وابستگی کے سبب وہ متانت و بردباری کا پیکر نظر آتے ہیں اور یہی پیکریت ان کے تزکیہء نفس کا وہ جواز پیش کرتی ہے جو تصوف کی بنیاد ہے اور یہ بھی باور کراتی ہے کہ وہ تصوف کے جملہ رموز سے رو بہ شناس ہیں۔ ان کی اپنی خودی کی نیستی کے بعد حاصل ہونے والا روحانی تقدس کی وجہ بلے صاحب کی شخصیت سے مزید تنویر عیاں ہوتی ہے۔ تصوف میں ان کی حیثیت و کیفیت کا اندازہ ان کی اس ایک منقبت سے معلوم پڑتاہے جو مشکل کشا حضرت علی کرم اللہ وجہ کی شان ِ اعظم پر مشتمل ہے۔ مذکورہ منقبت سے ایسا جان پڑتا ہے کہ مولیٰ علی کرم اللہ وجہ سے بلے صاحب کا شجرہء نسب کےعلاوہ ایک عارفانہ رشتہ استوار ہے ۔ یہی سبب ہے کہ ان کے کلام میں سرمدی و قلندری رنگ کی مخمور کیفیت ظہور پذیرہونے لگتی ہے اور آہستہ آہستہ قاری پر حال و قال کا پر بہار سرور طاری ہونے لگتا ہے۔ آپ فلسفہ ء تصوف اور روحانیت کے اسرار و رموز کی دبیز پرتوں کو ہٹاتے ہیں ، پھر ان کا مشاہدہ کے بعد تصوف میں معرفت کے کئی کئی مراحل سے گذر کر جو اسرار و رموز ان پر منکشف ہوتے ہیں، ان سے اہل ظرف لوگوں کو رو بہ شناس بھی کراتے ہیں۔وہ اپنے وقت کے علم تصوف پر قدرت رکھنے والی ایک اہم شخصیت بھی ہیں۔ ان کا تصوف پر کچھ بھی کہہ دیناایک قولِ آخر کا درجہ رکھتا ہے- فلسفہء اسلام اور اسلامی تعلیمات کا علم رکھنا اور بات ہے اور اسلامی تعلیمات پر زندگی جینا اور بات ہے اور یہی وہ عمل ہے جو کسی کو صوفی بناتا ہے۔ عہد شباب میں ہی ٖفخرالدین بلے بھی اسی طرز زندگی میں عملی طور پر جینے کو اپنا مقصد بناتے ہیں ۔ اس کے بعد ایک حلیم،متین ،برد بار اور سلیم الطبع انسان کی پیکریت کے نور کا ایک حسین ہالہ اہل دنیا ان کے ارد گرد محسوس کرتے ہیں ۔
دنیائے شعر و سخن میں بھی اسی طرح کا جلوہ بکھیرتے نظر آتے ہیں۔ 1944 میں پہلی بار شعر کہنے کے لیے زبانِ قلم کو وا کرتے ہی خاموشی کی بات نکلتی ہے ۔ یہ سید فخرالدین بلے کا پہلا شعر ہے
———-
پوچھتا ہے جب بھی کوئی مجھ سے خاموشی کی بات
آسماں کو دیکھ کر خاموش ہو جاتا ہوں میں
———-
گویا شعری سفر کے آغاز سے ہی ان کے اشعار تصوف کی تنویرکے منابع بنتے ہیں۔ ان کے کلام افکار و خیالات کی لا متناہی کائنات اپنے اندر سمائے ہوئے ہیں۔ وہ ایک درد مند انسان ہیں اور سبھی کے درد و الم کو انتہائی شدت سے محسوس کرتے نظر آتے ہیں اور اپنی طرح سب کو درد مند بنانے یا سمجھنے کی آرزو بھی رکھتے ہیں۔ ان کے اشعار سے ایسا لگتا ہے کہ وہ اس قدر حساس ہیں کہ خطا بت سے بہتر خود کلامی اپنے طرز سخن میں زیادہ پسند کیا کرتے ہیں۔ ہر شعر میں ان کا لحظہ ایک مہذب ، شائستہ و خوش اسلوب ہے۔ وہ بحرِِ افکار میں ہمیشہ غوطہ زن ہوتے ہیں اور گوناگوں بیش قیمتی علمی موتیاں اپنے اشعار کے دامن میں بھر لاتے ہیں۔ وہ اپنے اسلوبِ خاص سے مفہومِ کلام کی ترسیل قاری تک بہت سہل انداز میں کر جاتے ہیں۔ ہر بار کلام میں ندرت پیدا کرنا شاید ان کی ترجیحات میں رہا ہے۔ ان کی شاعری ہمیشہ ایک بلند ادبیت کا مرقع معلوم پڑتی ہے ۔ یوں تو انہوں نے کسی بھی اصنافِ سخن کو اپنے احاطہء فکر سے بعید نہیں رکھا مگر ہر شاعر کی طرح غزلیں کہنا ان کا من پسند شیوہ ہے۔
———-
یہ بھی پڑھیں : فخرِعلیگڑھ مسلم یونیورسٹی , سید فخرالدین بَلے علیگ
———-
ان کا خیال ایک فرشتوں جیسا ہے جو پل میں آسمان سے زمین اور زمین سے سمندر کی گہرائیوں میں اترنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ ان کی فکری لطافت پوری کائنات میں وسعت پذیر نظر آتی ہے ۔جس سے کبھی سورج،کبھی چاند اور کبھی بے انتہا تعداد میں موجود اجرام فلکی میں قدرت کی کار فرما صنعت کاریوں کو سمجھ سمجھ کر حیرتوں کے خلا میں کھوئے کھوئے رہتے ہیں۔ شاید یہ ان کا اس خالق اکبر کے تئیں ایک طرح کا اظہار تشکر ہے۔وہ اپنے گردو پیش میں غربت، فلاکت، ناداری اور افتادگی سے متاثرین کو دیکھتے ہیں تو بہت دل برداشتہ اور دل شکستہ ہوجاتے ہیں مگر انتہائی صبر و ٹحمل سے اپنا اظہار تاسف کرتے ہوئے ان کی فلاح و بہبود کی سفارشیں بھی کرتے ہیں جو ایک ہمدرد انسان ہونے کا جواز ہے۔ ان کی شاعری پر اپنے عہد میں جاری آشوب کا گہرا اثر بھی حاوی محسوس ہوتا ہے لیکن اسی کے ہمراہ تقدسِ عشق، اقدار معاشرہ اور مراسم انسان کے ماتحت رومانی، معاشرتی اور عمرانیاتی اجزا پر بھی اشارات و کنایات میں بہت کچھ کہہ جاتے ہیں۔ ان میں ایک خاص خوبی ہے کہ اپنے آس پاس رونما ہونے والے چھوٹے سے چھوٹے معاملات کو ایک منفرد زاویہء نگاہ سے پرکھنے کا ہنر بھی دیکھنے کو ملتا ہے، جس سے ان کے معاصرین استعجابی کیفیت کے نرغے میں آجاتے ہیں اور کھل کر بے ساختہ داد و تحسین سے نوازتے ہیں۔ چونکہ وہ صوفی منش ہیں اور تصوف پر ایک دال ہیں اس لئے ان کی شاعری میں حمدیہ ، نعتیہ و منقبت کے عناوین سے بھی بہت سی تخلیقات ملتی ہیں ۔جو اردو ادب میں آج بھی ہمارے لئے بیش بہا سرمایہ ہیں۔وہ سہل پسند و سادہ گو شاعر ہیں۔ آج بھی ان کی تخلیقات میں پائی جانے والی سادگی کا ایک اعلیٰ حسن قابل دید ہے اور ایسا لگتا ہے کہ یہی سادگی انہیں بقائے دوام بخشتی ہے۔ گر چہ 28 جنوری 2004 میں سید فخرالدین محمد بلے کی روح پرواز ہو کر اپنے مرکز کی جانب لوٹتی ہے اور جسد خاکی ایک دن بعد 29 جنوری 2004 کو ہمارے درمیان سے اٹھ کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہماری نظروں سے اوجھل ہوتا ہے مگر اپنی ادبی کائنات کے سبب اردو دنیا کے شعرا، ادبا،صوفیا، دانشوران، تخلیق کاران، مقررین، صحافین، محققین، مولفین اور اسکالرز کے دل و دماغ کی نظر میں ہمیشہ ایک آئیڈیل کی طرح آج بھی ہیں کیونکہ وہ زندہ جاوید ہیں۔
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ