سیرِ چمن میں ، بیٹھ لب جُو، دُرُود پڑھ

سیرِ چمن میں ، بیٹھ لب جُو، دُرُود پڑھ

کر یاد، پھول دیکھ کے وہ رُو، دُرُود پڑھ

 

ہر سانس وروِ صَلِّ علَیٰ سے مہکتی آئے

جنّت بنا رہے ترا ہر سُو، دُرُود پڑھ

 

خالی نہ جائے کوئی بھی پَل اُن کے ذکر سے

جتنا بھی وقت تجھ کو ملے تُو، دُرُود پڑھ

 

زنجیریٔ حیات! ہم آغوشِ وقت ہو

پھیلا صدائے نوُر کے بازو! دُرُود پڑھ

 

دہلیزِ نوُر آنکھ میں رکھ اُس حریم کی

سر کو جھکا کے اے دلِ خوش خُو! دُرُود پڑھ

 

کُنجِ لَحَد سے باغِ جناں تک رہے گی ساتھ

ہے خاص اِس دُرُود کی خوشبو! دُرُود پڑھ

 

اُن کی جناب میں سرِ تسلیم، خم رہے

دن ہو کہ رات، قلبِ رضا جُو! دُرُود پڑھ

 

دُوری میں رہ کے کیفِ حضوری نصیب ہو

وہ ، جس میں ہو اویس کی خوشبو، دُرُود پڑھ

 

یہ سوچ، تجھ کو کون سی نعمت ملی ، ریاض

آنکھوں میں لا کے شکر کے آنسو، دُرُود پڑھ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

حاصل ہوا جو فیض رسول انام کا
کمتر تھا جذب و شوق، کرم بیشتر رہا
جو روشن حلیمہ کا گھر دیکھتے ہیں
نعت پیکر باندھتی ہے اذن کی تاثیر سے
دہر پر نور ہے ، ظلمات نے منہ موڑ لیا
نعتِ پیغمبرؐ لکھوں طاقت کہاں رکھتا ہوں میں
نہ رنج یاد رہے ، سب ملال بھول گئے
سرتاجِ انبیاء ہو شفاعت مدار ہو
خواہشِ دید! کبھی حیطۂ ادراک میں آ
کس درجہ تلفظ آساں ہے معناً بھی نہایت اسعد ہے

اشتہارات