Selfie

سیلفی

ھجر کے بے صدا جزیرے پر
کُنجِ تنہائی میں کوئی لڑکی
خال و خد پر لگا کے آس کا رنگ
چشم و لب پر سجا کے دل کی اُمنگ
آنکھوں آنکھوں میں مُسکراتی ھے
شام کی سُرمئی اُداسی میں
اپنی تصویر خُود بناتی ھے !

ادھ کُھلے ھونٹ، نیم وا آنکھیں
بے نوا ھونٹ، بے صدا آنکھیں
ایسی خاموشی ؟ ایسی تنہائی ؟
خود تماشا ھے ! خود تماشائی
خود ھی تصویر، خود مصور ھے
خود غزل اور خود ھی شاعر ھے

سوچتی ھے کہ جس کے ھجر میں مَیں
شمع سی صبح و شام جلتی ھُوں
موم سی رات دن پگھلتی ھُوں
کاش وہ میری روشنی دیکھے
میری آنکھوں کی ان کہی سمجھے
میرے تن من کی بے بسی دیکھے
جتنی شدت سے خُود کو دیکھتی ھوں
کاش وہ بھی مجھے کبھی دیکھے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ایک قاتل نے اذاں دی لحنِ داؤدی کے ساتھ
‏چھوٹے بچوں کی طرح پَل میں بِگڑ بیٹھتے ہیں
ٹینکوں کی جنگ بر محاذِ سیالکوٹ 1965ء
اصلاحی نظم
شاعری
گنیے تو ذرا خون پسینے کی کمائی
بلَکتے دل کو راحت، چشمِ نم کو سُکھ عطا ھو
ایک تہہ خانہ ھُوں مَیں اور مرا دروازہ ھے تُو
نقش و نمود و نام کو اللہ پہ چھوڑ دے
ہم تجھ سے دور اور ترے آس پاس لوگ