سیّد و سردارِ کُل یا سرورِ والا حَشَم

سیّد و سردارِ کُل یا سرورِ والا حَشَم

اِن غلاموں کے لیے اب کیجیے چشمِ کرم

 

جیسے بھی ہیں آپ کے ہیں، حاضرِ دربار ہیں

کیجیے لُطفِ حسیں رکھ لیجیے سب کا بھرم

 

اپنی رحمت سے سبھی یہ جھولیاں بھر دیجیے

عرض ہے سن لیجیے فریادِ عاصی محترم

 

دُور سے آئے ہوئے عشاق ہیں سب نور کے

طُور کے جلوے دِکھا دو اے مِرے شاہِ اُمم

 

نورِ عالم، رونقِ کون و مکاں بس آپ ہیں

آپ سا آیا کوئی نہ آئے گا ذِی محتشم

 

دیجیے اپنے رضاؔ کو عِشق ایسا یانبی

بس پڑھے یہ بھی دُرودوں کی دُعائیں دَم بہ دَم

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

گدا نواز ہے اور نازِ آب و گِل بھی ہے
عرفان نقشِ ذات کا، قُدسی صفات کا
تُوعنایتوں کا مجاز ہے، مری خواہشیں مرے نام کر
حکم خالق کا سُنا ، سر کو جھکا کر آیا
کفر کے قلعے گرانے آ گئے ہیں مصطفیٰﷺ
حضور ! آپ کی فرقت رلائے جاتی ہے
فنا ہو جائے گی دنیا مہ و انجم نہیں ہوں گے
ہے نام دو جہاں میں وجہِ قرار تیرا
بڑھ کے نہ کوئی ان سے محبوب خدا دیکھا
جب کبھی تلخئ ایام سے گھبراتا ہوں