اردوئے معلیٰ

شاخِ سدرہ کے قلم سے مصطفیٰ کی بات ہو

 

شاخِ سدرہ کے قلم سے مصطفیٰ کی بات ہو

دل کے کاغذ پر رقم مدحت کی یوں رشحات ہو

 

ہے تصور میں مدینہ دم بہ دم جلوہ فگن

حاضری کا اذن بھی مل جائے تو کیا بات ہو

 

خود سمندر آئے گا در پر مرے کوزہ بکف

ان کے لطفِ خاص کی مجھ پرا گر برسات ہو

 

ذرہ ذرہ نور ہے طیبہ کی ارضِ پاک کا

روشنی ہی روشنی ہے دن ہو چاہے رات ہو

 

نعت گو ہوں آپ کا اے سبز گنبد کے مکیں

جلوہ دکھلانا مجھے جب عالمِ سکرات ہو

 

ہر قدم مکے میں بھی منظرؔ مدینہ ہی دکھا

وہ رمی ہو یا منٰی ہو یا کہ وہ عرفات ہو

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ