اردوئے معلیٰ

Search

شاداں ہوں جب سے مجھ کو عطا یہ ہنر ہوا

محور سخن کا مدحتِ خیرُ البشر ہوا

 

اُس خیر بار عالمِ جملہ کی یاد میں

مقصودِ حرف حرف مدینہ نگر ہوا

 

پژمردہ زندگی مری اس دن سے جی اُٹھی

جس دن سے حرفِ نعت مرا راہبر ہوا

 

لب وا ہوئے نہ تھے مرے عرضی کے واسطے

خیر الورٰی کے در سے کرم پیشتر ہوا

 

آلِ نبی سے ہو گا مؤدت کا یہ ثمر

میں بے حساب اہلِ جناں میں اگر ہوا

 

ہیں مدحِ شاہِ والا کی یہ برکتیں تمام

میرا حوالہ جن کے سبب معتبر ہوا

 

منظر اس ایک پل میں ہی صدیاں گزر گئیں

جو پل بھی یادِ شہرِ نبی میں بسر ہوا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ