شاداں ہیں دونوں عالم، میلادِ مصطفیٰ پر

 

شاداں ہیں دونوں عالم، میلادِ مصطفیٰ پر

تحلیل ہو گئے غم، میلادِ مصطفیٰ پر

 

وردِ زباں ہو ہر پل یہی جاوداں وظیفہ

پڑھیے درود پیہم میلادِ مصطفیٰ پر

 

کون و مکاں کی ارفع نعمت عطا ہوئی ہے

مسرور کیوں نہ ہوں ہم، میلادِ مصطفیٰ پر

 

رگ رگ میں روشنی سی اتری قرار بن کر

بے چینیاں گئیں تھم، میلادِ مصطفیٰ پر

 

پت جھڑ کی ہر نشانی مٹنے لگی چمن سے

آیا بہار موسم، میلادِ مصطفیٰ پر

 

جب نورِ مصطفیٰ نے بشری لباس پہنا

انساں ہوا معظم، میلادِ مصطفیٰ پر

 

اشفاقؔ ان کی آمد ہے مہر و مہ کی زینت

تاریکیاں ہیں برہم، میلادِ مصطفیٰ پر

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

حشر میں مجھ کو بس اتنا آسرا درکار ہے
شکستہ حال اپنے دل کو سمجھانے کہاں جاتے
رخ پہ رحمت کا جھومر سجائے کملی والے کی محفل سجی ہے
طیبہ کی اُس ریت پہ پھولوں کے مسکن قربان
حقیقتِ مصطفی کہوں کیا کہ اضطراب اضطراب میں ہے
قلم خوشبو کا ہو اور اس سے دل پر روشنی لکھوں
وہ جو شبنم کی پوشاک پہنے ہوئے
میں پہلے آبِ زم زم سے قلم تطہیر کرتا ہوں​
گل شاہ بحر و بر کا اک ادنیٰ غلام ہے
نہیں ہے ارض وسما میں کوئی شریک خدا

اشتہارات