اردوئے معلیٰ

Search

 

شاعری کے ماتھے پر ان کی بات مہکے گی

لفظ مسکرائیں گے اور نعت مہکے گی

 

دیدِ شاہ کی خواہش بند آنکھ میں رکھ لوں

آنکھ میں یہ کستوری ساری رات مہکے گی

 

صرف تذکرہ کیجے والضحیٰ کے چہرے کا

لٹ حسین زلفوں کی سات سات مہکے گی

 

میری روح بطحا کے بوستان میں جا کر

ڈال ڈال جھومے گی پات پات مہکے گی

 

جب بھی لکھا جائے گا نام سرورِ دیں کا

مشکبو قلم ہوگا اور دوات مہکے گی

 

مشک عشقِ سرور کا دل میں رکھ لیا جائے

تب خیال مہکے گا تب حیات مہکے گی

 

تیر کھائے اصغر سے کہہ دیا فرشتوں نے

کربلا کے پھولوں سے کائنات مہکے گی

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ