یہی دعا ہے رہیں سبز ہی ترے موسم

یہی دعا ہے رہیں سبز ہی ترے موسم

خدا کبھی نہ دکھائے تجھے ملال کے دن

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کٹ ہی گئی جدائی بھی کب یہ ہوا کہ مر گئے
پوچھا نہیں تھا ہم نے جوانی میں وقت کو
بزرگ رخصت ہوئے ہیں لیکن برآمدے میں
حق پرستوں کا لہجہ ہمیشہ تلخ ہوتا ہے
تپش دل کے سبب سے ہے مجھے خواہش مرگ
شفاف دل، پانی سا لہجہ، مہکتے لفظ
تم بھی شاید وہیں سے آۓ ھو
وجودِ عشق سے انکار کرنے والا تھا
دکھ میں اب بھی پکارتی ہوں "​ماں"​
اور ان دنوں کسی سے بھی مطلب نہیں مجھے