اسطرح قید ہوں ذات کے خول میں

اسطرح قید ہوں ذات کے خول میں

گولیاں ہوتی ہیں جیسے پستول میں

 

اِک کنواں کھودنے کی فقط دیر تھی

پیاس رکھی ملی مجھ کو ہر ڈول میں

 

منتظر ہیں کسی آخری ہچکی کے

ہم انأوں کے زندانِ پُر ہول میں

 

کہہ رہی ہیں مناظر کی خاموشیاں

کس قدر تابکاری ہے ماحول میں

 

ہو گیا شل بدن اپنے ہی بوجھ سے

کاٹ ایسی تھی اُس لہجے میں ، بول میں

 

رات بھر دندناتے پھرے مرتضیٰ

یاد کے بھیڑیے سوچ کے غول میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

میں مر مٹا تو وہ سمجھا یہ انتہا تھی مری
ضبط کے امتحان سے نکلا
بجائے کوئی شہنائی مجھے اچھا نہیں لگتا
اشکِ کم ظرف مرا ضبط ڈبو کر نکلا
خواب ہوں ، خواب کا گماں ہوں میں
ہر چیز مُشترک تھی ہماری سوائے نام
بے گھر ہوئیں تو گھر کی ضرورت نہیں رہی
وہ ایک غم کا گیت سنائے بیٹھا تھا
اک عہدِ گزشتہ کے کنارے پہ ٹِکا ہوں
نازاں رہے کہ رقص میں ہے باد گردِ دل