تری یاد کا نقش گہرا نہیں ہے

تری یاد کا نقش گہرا نہیں ہے

مگر سوچ پر کوئی پہرہ نہیں ہے

 

نہیں ہے ترا حسن کوئی عدالت

مرا عشق کوئی کٹہرا نہیں ہے

 

رعایا بھی کچھ بے زباں ہے یہاں کی

فقط ایک حاکم ہی بہرہ نہیں ہے

 

مرے پاس آ تجھ کو سیراب کر دوں

مری ذات دریا ہے صحرا نہیں ہے

 

ابھی آنکھ کی گرد نکلی نہیں ہے

ابھی دل کا وہ درد ٹھہرا نہیں ہے

 

مرے ساتھ چل تو رہے ہو سفر میں

مرا ’’آج‘‘ کل سا سُنہرا نہیں ہے

 

مری ہار کے جشن کا غدر ہے یہ

کوئی عید ، ہولی ، دسہرا نہیں ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

یہ کون مجھ کو صلِّ علیٰ یاد آ گیا
درمیاں پردۂ حائل کو اٹھا سکتے ہیں
سنور کر پھر گئی قسمت اِسی مردِ تن آساں کی
اپنے ایمان و یقیں میں وہ کھرا ہوتا ہے
مرے عرضِ مدعا میں کوئی پیچ و خم نہیں ہے
لا الٰہ دل نشیں دو حرفِ سادہ کیجیے
دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے
اُس نے اک شام پلائی مجھے چائے ، ہائے
مر گیا میں بھری جوانی میں
عقل تو خوش ہے مری تردید پر