تھا فقط منظرِ صدا پتّا

تھا فقط منظرِ صدا پتّا

سو ہوا شاخ سے رِہا پتّا

 

موت ہے ہاتھ اِک جواری کا

زندگی جیسے تاش کا پتّا

 

شاخچوں سے ہوا کا جھگڑا تھا

اور ندّی میں جا گِرا پتّا

 

چاندنی میں چراغ لگنے لگا

آب پر زرد تیرتا پتّا

 

جم کے پتھر پہ ہو گیا پتھر

ایک تصویر کھینچتا پتّا

 

تیری چاہت کی سبز ڈالی سے

جھڑ گیا میرے نام کا پتّا

 

پھول چن کر کتاب سے میری

رکھ دیا اُس نے ملگجا پتّا

 

مرتضیٰ سوچ کر بتاؤ تم

کون بہتر ہے پھول یا پتّا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

حوصلہ مند نہیں دل ہی تن آسانوں کے
کفن کو کھول کے صورت دکھائی جاتی ہے
اک جاں بلب جنون کی شدت ہوں اور بس
جو کہو تم سو ہے بجا صاحب
اٹھا ہوں گر کے ، مرا حوصلہ کمال کا تھا
مرا خود سے بھی کوئی رابطہ نہیں ہو رہا
ہزار لوگوں میں دو چار بھی نہیں نکلے
دکھائی دے تو رہےہیں ابھی قطار میں ہیں
یہ کہہ رہے ہیں وہ کالک اُچھالنے والے
دیارِ شوق کے سب منظروں سے اونچا ہے