تیغ اپنوں نے چھینی تھی

تیغ اپنوں نے چھینی تھی

ورنہ جیت یقینی تھی

 

رات سحر تک مہکا ہوں

اُس کی خوشبو بھینی تھی

 

ہم فرسودہ کہلائے

اپنی خصلت دینی تھی

 

نازک ہاتھ جلا ڈالے

چائے لازم پینی تھی

 

پریوں سے سُندر تھا رُوپ

لیکن خلق زمینی تھی

 

کس سُرعت سے درد ملے

وقت کی کوکھ مشینی تھی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

تجھ کو اپنا کے بھی اپنا نہیں ہونے دینا
نیا کروں گا وہ جو پرانوں سے مختلف ہو
نہ کوئی باد نما تھا نہ ستارہ اپنا
جہان بھر میں کسی چیز کو دوام ہے کیا ؟
!بس ایک جلوے کا ہوں سوالی، جناب عالی
اِسی میں چھُپ کے بلکنا ، اِسی پہ سونا ہے
تمہارے لمس کی حدت سے تن جھلستا تھا
یہی کمال مرے سوختہ سخن کا سہی
مجھے اب مار دے یا پھر امر کر
مجھ کو ملے شکست کے احساس سے نجات