جس سے رشتہ ہے نہ ناتا میرا

جس سے رشتہ ہے نہ ناتا میرا

ذات اُس کی ہے اثاثہ میرا

 

تیری زُلفیں ہی مِری شامیں ہیں

تیرا چہرا ہے سویرا میرا

 

تُو نیا چاند ، میں ڈھلتا سورج

ساتھ نبھنا نہیں تیرا میرا

 

میں ترا قرض چکاؤں کیسے؟

مجھ پہ تو قرض ہے اپنا میرا

 

پیار کی میرے اُسے عادت ہے

اُس نے غصّہ نہیں دیکھا میرا

 

وہ تو خوشبو ہے بھُلا دے اُس کو

مرتضیٰ مان بھی کہنا میرا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

تجھ کو اپنا کے بھی اپنا نہیں ہونے دینا
نیا کروں گا وہ جو پرانوں سے مختلف ہو
نہ کوئی باد نما تھا نہ ستارہ اپنا
جہان بھر میں کسی چیز کو دوام ہے کیا ؟
!بس ایک جلوے کا ہوں سوالی، جناب عالی
اِسی میں چھُپ کے بلکنا ، اِسی پہ سونا ہے
تمہارے لمس کی حدت سے تن جھلستا تھا
یہی کمال مرے سوختہ سخن کا سہی
مجھے اب مار دے یا پھر امر کر
مجھ کو ملے شکست کے احساس سے نجات