جو عبث ہم پہ رہا شک اُس کا

جو عبث ہم پہ رہا شک اُس کا

ہے نہیں ہم کو گِلہ تک اُس کا

 

خود کو محدود کیا ہے اُس تک

ہے مری ذات پہ بس حق اُس کا

 

روز آتا تھا وہ تجھ سے مِلنے

یوں تو تھا دور بہت چک اُس کا

 

وہ ترے پیار کا دم بھرتا ہے

تو بھی کچھ مان کبھی رکھ اُس کا

 

وہ جسے تم سے محبت تھی ، ہے

ہو تمہیں ساتھ مبارک اُس کا

 

اتنے بھی پاس نہ جاؤ اُس کے

دل کرے گا نہیں دھک دھک اُس کا؟

 

مرتضیٰ کھیل رہے تھے ’’لڈّو‘‘

آگیا فون اچانک اُس کا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

یہ جو مجھ پر نکھار ہے سائیں
ھجر میں ھے یہی تسکین مُجھے
وہ روٹھی روٹھی یہ کہہ رہی تھی قریب آؤ مجھے مناؤ
پڑھا گیا مرا روزِ جزا جو نامہِ عشق
تحریر سنبھالوں ، تری تصویر سنبھالوں
پھول کھلا روِش روِش ، نُور کا اہتمام کر
خُدا نے تول کے گوندھے ہیں ذائقے تم میں
اچھا ہوا بسیط خلاؤں میں کھو گئے
تم نے یہ سوچنا بھی گوارا نہیں کیا؟
چکھنی پڑی ہے خاک ہی آخر جبین کو