خسارہ بھی اگر ہو منفعت کہنا

خسارہ بھی اگر ہو منفعت کہنا

محبت کو کبھی آزار مت کہنا

 

کبھی آہٹ کو دستک جاننا دل کا

کبھی یوں ہی کسی پُرزے کو خط کہنا

 

تم اپنے سر کوئی الزام مت لینا

جُدائی پر تھے میرے دستخط کہنا

 

خطائیں ٹھیک ہیں اپنی جگہ لیکن

محبت میں غلط ہے معذرت کہنا

 

سنو! پہلے مجھے تسخیر کر لو تم

پھر اُس کے بعد اپنی سلطنت کہنا

 

ہمیشہ سچ کو سچ گرداننا اشعرؔ

جہاں دیکھو غلط ہوتا ، غلط کہنا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ہیں مرے وجود میں موجزن مری الفتوں کی نشانیاں
اِدھر اُدھر کہیں کوئی نشاں تو ھوگا ھی
اک آدھ روٹی کے واسطے کیسے کیسے چکر چلا رھا ھُوں
تمہیں لگے تو لگے کچھ بھی لا محالہ برا
دکھانے کو سجنا سجانا نہیں تھا
خوشبوئے گُل نظر پڑے ، رقص ِ صبا دکھائی دے
میرا سکوت سُن ، مِری گویائی پر نہ جا
غضب کی دُھن، بلا کی شاعری ہے
وہ زخم جو معمول سمجھتے تھے ، بھرے کیا؟
بات یوں ہے کہ اب دل سلامت نہیں