زخم کتنے لگے ہیں چاقو سے

زخم کتنے لگے ہیں چاقو سے

کون پوچھے یہ بات آہو سے

 

شہر میں یاد آتا ہے گاؤں

اور وہ لوگ دست و بازو سے

 

دوستی ہے خلوص کا رشتہ

تولئے مت اِسے ترازو سے

 

جو جہاں میں مثال بنتے ہیں

اب کہاں ہیں وہ لوگ باہو سے

 

لفظ بیساکھیاں بنیں کب تک

لِکھ کوئی داستان آنسو سے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ہمیں شعور جنوں ہے کہ جس چمن میں رہے
چاہے آباد ہوں، چاہے برباد ہوں، ہم کریں گے دعائیں تمھارے لئے
کوئی نہیں ھے یہاں جیسا خُوبرُو تُو ھے
مِرا تماشہ ہوا بس تماش بینو! اُٹھو
یہ میرا دل ہے کہ خالی پڑا مکاں کوئی ہے؟
کتنے چراغ جل اٹھے، کتنے سراغ مل گئے
دُھوپ میں جیسے پھول ستارہ لگتا ہے
خواب کدھر چلا گیا ؟ یاد کہاں سما گئی ؟
عمر بس اعداد کی گنتی سے بڑھ کر کچھ نہیں
جو دل دھڑک رہے تھے وہ دف بھی نہ ہو سکے