غدر سے بے خبر نہیں ہونا

غدر سے بے خبر نہیں ہونا

بدعائے بشر نہیں ہونا

 

منزلوں کا سُراغ بھی رکھنا

صرف گردِ سفر نہیں ہونا

 

تان رکھنا وجود پر چھایا

ماسوائے شجر نہیں ہونا

 

شام بننا کوئی سُہانی سی

جون کی دوپہر نہیں ہونا

 

صحرا کی خشکیوں سے چکرا کر

پانیوں کا بھنور نہیں ہونا

 

مرتضیٰ لوگ روند ڈالیں گے

اتنے بھی بے ضرر نہیں ہونا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

خستہ دل، نالہ بلب، شعلہ بجاں ٹھہرے ہیں
حصارِ دیں سے جواں نسل اُف نکلنے لگی
بابِ ادب و علم و خبر تک نہیں پہنچے
شگفتہ، دلنشیں، سادہ رواں ہے
یادِ یزداں آخری سِن کے لیے
کائناتِ رنگ و بُو سے ہجر کا مشتاق ہوں
عشق سے مجھ کو انحراف نہ تھا
کوئی دلیل مرے جرم کی ،سند ،مرے دوست؟
یقیں کو اک گماں سا کھا رہا ہے
میں عشق عشق کی گردان میں پڑا ہوا تھا